اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کی حشد الشعبی نے ایک بیان میں ان الزامات کی تردید کی ہے کہ حشد الشعبی کے ہیڈکوارٹرز پر حملے سے قبل تنظیم کے سربراہ فالح الفیاض کو حملے کی اطلاع تھی، تاہم انہوں نے فوجی یونٹس کو آگاہ نہیں کیا۔
حشد الشعبی نے کہا کہ بعض سیاسی شخصیات کی جانب سے فالح الفیاض کے خلاف عائد کیے گئے یہ الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ان کے پیچھے کوئی دلیل یا حقیقت موجود نہیں۔
بیان کے مطابق، خطے میں حالیہ مہینوں کے دوران حالات میں تبدیلی کے آغاز سے ہی حشد الشعبی کے تمام یونٹس کو ہائی الرٹ رکھا گیا تھا۔ حملے سے دو روز قبل تمام یونٹس کو انتہائی احتیاط اور چوکس رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اہلکاروں کی جانیں بچانے اور جانی نقصان کم کرنے میں مدد ملی۔
حشد الشعبی نے مزید کہا کہ اس کے برعکس بریگیڈ 30 کی چوتھی رجمنٹ نے معمول کے تمام حفاظتی اقدامات نہیں کیے، جس کے باعث حملوں کے دوران اس کے زیادہ اہلکار شہید ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حشد الشعبی کی قیادت نے اس یونٹ کے ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ غفلت کے اسباب کا تعین اور ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔
حشد الشعبی نے سیاسی حلقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب اس کے اہلکار ایک بزدلانہ جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے، ایسے وقت میں بعض سیاسی قوتوں کی جانب سے شہداء اور زخمیوں کے خون کو حشد الشعبی کے کمانڈروں کے خلاف سیاسی حساب چکانے کے لیے استعمال کرنا افسوسناک اور قومی، پیشہ ورانہ و اخلاقی ذمہ داری کے منافی ہے۔
حشد الشعبی نے واضح کیا کہ اپنے اہلکاروں کی حفاظت اور ان کی جان و خون کا تحفظ اس کی قیادت کی اولین ذمہ داری ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر کسی فرد کی جانب سے حشد الشعبی کی قیادت کے خلاف دانستہ طور پر جھوٹی معلومات یا بے بنیاد الزامات پھیلانا ثابت ہوا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
آپ کا تبصرہ